فهرس الكتاب

الصفحة 2902 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

2902 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: «أَرَدْتِ الْحَجَّ؟» قَالَتْ: وَاللهِ، مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: «حُجِّي وَاشْتَرِطِي، وَقُولِي اللهُمَّ، مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ

ابو اسامہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر ) سے انھوں نے حضر عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے فر ما یا:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا (بن عبد المطلب ) کے ہاں تشریف لے گئے اور دریافت کیا:"تم حج کا ارادہ رکھتی ہو۔؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خود کو بیماری کی حا لت میں پا تی ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا:"حج (کی نیت ) کرو اور شر ط کرلو اور یوں کہو: اللہم مَحِلِّی حیث حبستنی""اے اللہ !میں وہاں احرا م کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے گا ۔وہ حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ تھیں ۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت