فهرس الكتاب

الصفحة 3586 من 7481

کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

3586 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ فَقَالَ: «أَفْعَلُ مَاذَا؟» قُلْتُ: تَنْكِحُهَا، قَالَ: «أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكِ؟» قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي، قَالَ: «فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي» ، قُلْتُ: فَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ

ابواسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے خبر دی، کہا: مجھے میرے والد (عروہ بن زبیر) نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں نے آپ سے عرض کی: کیا آپ میری بہن (عَزہ) بنت ابوسفیان کے بارے میں کوئی سوچ رکھتے ہیں؟ آپ نے پوچھا:"میں کیا کروں؟"میں نے عرض کی: آپ اس سے نکاح کر لیں، آپ نے فرمایا:"کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟"میں نے عرض کی: میں اکیلی ہی آپ کی بیوی نہیں ہوں اور اپنے ساتھ خیر میں شریک ہونے (کے معاملے) میں (میرے لیے) سب سے زیادہ محبوب میری بہن ہے۔ آپ نے فرمایا:"وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔"میں نے عرض کی: مجھے خبر دی گئی ہے کہ آپ دُرہ بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکاح کا پیغام بھیج رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا:"ام سلمہ کی بیٹی کے لئے؟"میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:"اگر وہ میری گود میں پروردہ (ربیبہ) نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی، وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے والد کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا، اس لیے تم خواتین میرے سامنے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے بارے میں پیش کش نہ کیا کرو"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت