فهرس الكتاب

الصفحة 1016 من 7481

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

ظہر اور عصر میں قراءت

1016 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ. فَقَالَ: «إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا إِنِّي لَأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ» فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ

ہشیم نے عبد الملک بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ﷜ سے روایت کی کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر﷜ سے حضرت حضرت سعد﷜ کی شکایت کی اور (اس میں) ان کی نماز کا بھی ذکر کیا۔ حضرت عمر﷜ نے ان کی طرف پیغام بھیجا، وہ آئے تو حضرت عمر﷜ نے ان سے، کوفہ والوں نے ان کی نماز پر جو اعتراض کیا تھا ، اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: یقینًا میں انہیں رسول اللہﷺ کی نماز کی طرف نماز پڑھاتا ہوں، اس میں کمی نہیں کرتا۔ میں انہیں پہلی دو رکعتوں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری میں دو تخفیف کرتا ہوں۔ اس پر عمر﷜ نے فرمایا: اے ابو اسحاق! آپ کے بارے میں گمان (بھی) یہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت