فهرس الكتاب

الصفحة 1060 من 7481

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

نماز کے ارکان میں اعتدال اور نماز کی تکمیل کے ساتھ اس میں تخفیف ہونی چاہیے

1060 حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:"إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، قَالَ: فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ مَكَثَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ"

۔ خلف بن ہشام نے حماد بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس ﷜ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں تمہیں ایسی نماز پڑھانے میں کوتاہی نہیں کرتا، جیسی میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا (کہ وہ) ہمیں پڑھاتے تھے۔

ثابت نے کہا: انس﷜ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا۔ جب وہ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں اور جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا: وہ بھول گئے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت