1203 دَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ::"كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى نَزَلَتْ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: 238] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ، وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ"
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے ،انھوں نے حارث بن شبیل سے ،انھوں نے ابوعمر و شیبانی سے اور انھوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا: ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے ، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کرلیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری، (وقوم للہ قنتین) '' اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھٹرے ہو'' تو ہمیں خاموش رہنے کاحاکم دیا گیا ہمیں گفتگوکرنے سے روک دیا گیا۔