1287 وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَايْمُ اللهِ مَا جَاءَ ذَاكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِي - قَالَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: «لَا» قَالَ فَقُلْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ: «إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ» قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
زائدہ نے سلیمان (اعمش ) سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے زیادہ پڑھا دی تھی یا کم ۔ ابراہیم نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ (وہم ) میری طرف سے ہے ۔ عبداللہ نے کہا: تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیانماز میں کوئی نیا حکم آگیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: '' نہیں '' تو ہم نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا اس سے آگا ہ کیا تو آپ نے فرمایا: '' جب آدمی زیادتی یا کمی کر لے تو دو سجدے کر ے ۔'' (عبداللہ بن مسعود نے) کہا: اس کے بعد آپ نے دو سجدے کیے ۔