1304 وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:"صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ فَقَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ"وقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى: «فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُهَا»
عبید اللہ بن معاذ غنبری ارو محمد بن عبد الاعلیٰ نے کہا:ہمیں معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی ) سے حدیث سنائی 'انھوں نے بکر (بن عبد اللہ مزنی) سے اور انھوں نے ابو رافع سے روایت کی'انھوں نے کہا:میں نے حضرت ابوھریرہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انھوں نے (اذا السّماء انشقّت) کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا ۔میں نے پوچھا:یہ سجدہ کیسا ہے ؟انھوں نے جواب دیا:میں نے اس میں ابوالقاسم (محمد رسو ل اللہ ﷺ) کے پیچھے سجدہ کیا 'اس لیے میں اس میں ہمیشہ سحدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ (ﷺ) سے جا ملوں۔ (محمد) بن عبد الاعلیٰ نے کہا:میں بھی ہمیشہ یہ سجدہ کرتا ہوں۔