فهرس الكتاب

الصفحة 1425 من 7481

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ(درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے

1425 وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا» ، ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ

شتیر بن شکل نےحضرت علی ﷜ سےروایت کی ، کہا:رسول اللہ ﷺ نےاحزاب کے دن فرمایا: ''انھوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی ) عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔''پھر آپ نے اسے رات کے دونوں نمازوں مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا ۔ (مغرب کا وقت جارہا تھا اس لیے آخری وقت میں پہلے مغرب پڑھی ،پھر عصر کی قضا پڑھی ، پھر عشاء پڑھی ۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت