فهرس الكتاب

الصفحة 1463 من 7481

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان

1463 دَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا» قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: «أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ»

معاذ عنبری نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور انھوں نے سیار بن سلامہ سے روایت کی کہ میں نے ابو برزہ کو کہتے ہوئے سنا ، رسول اللہ عشاء کی نماز میں کچھ (یعنی ) آدھی رات تک تا خیر کی پروانہ کرتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا: پھر میں انھیں دوبارہ ملاتو انھوں نے کہا: یا تہائی رات تک۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت