فهرس الكتاب

الصفحة 1498 من 7481

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

عذر کی صورت میں نماز سے پیچھے رہ جانے(اکیلے پڑھ لینے )کی اجازت

1498 وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ: إِنِّي أَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا، قَالَ مَحْمُودٌ: فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ، وَمَعْمَرٍ

اوزاعی سے روایت ہے ، کہا: مجھے زہری نے حضرت محمود بن ربیع ﷜ سے حدیث سنائی ، کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کا وہ کلی کرنا اچھی طرح یا د ہے جو آپ نے ہمارے گھر میں ایک ڈول سے (پانی لے کر ) کی تھی (اور اس کا پانی میر منہ پر ڈالا تھا ) ۔ محمود ﷜ نے کہا کہ مجھے عتبان بن مالک ﷜ نے بتایا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری نظر میں خرابی پیداہو گئی ہےغاور اس بات تک حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے دو رکعات نماز پڑھائی اور یہ کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو جشیشہ (خزیر سے ملتے جلتے کھانے ) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے بنایا تھا ۔انھوں (اوزاعی ) نےاس کے بعد یونس اور معمر والا اضافہ بیان نہیں کیا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت