فهرس الكتاب

الصفحة 1615 من 7481

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

سفر میں نفل نماز سواری پر پڑھنے کا جواز'سواری کا رخ چاہے جدھر بھی ہو

1615 و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ قَالَ سَعِيدٌ فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلْتُ لَهُ خَشِيتُ الْفَجْرَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ فَقُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ

ابو بکر بن عمر بن عبدالرحمان ،بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سعید بن یسار سے روایت کی کہ انھوں نے کہا: میں مکہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر کررہا تھا۔پھر جب مجھے صبح ہوجانے کا اندیشہ ہوا تو میں سواری سے اترا اور وتر پڑھے،پھر میں ان سے جا ملا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے پوچھا:تم کہاں (رہ گئے) تھے؟میں نے ان سے کہا:مجھے فجر ہوجانے کا اندیشہ ہوا،اس لئے میں نے اتر کروترپڑھے۔تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:کیا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں نمونہ نہیں ہے؟میں نے کہا:کیوں نہیں ،اللہ کی قسم ہے انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت