1795 وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَلَمَةُ: فَلَقِيتُ كُرَيْبًا، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، وَقَالَ: «وَاجْعَلْنِي نُورًا» وَلَمْ يَشُكَّ.
نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی،کہا:ہمیں سلمہ بن کبیل نے بکیر سے حدیث سنائی،انھوں نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
سلمہ نے کہا: میں کریب کو ملا تو انھوں نے کہا:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں اپنی خالہ میمونہ کے ہاں تھا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔۔۔پھر انھوں نے غندر (محمد بن جعفر) کی حدیث (1794) کی طرح بیان کیا اور کہا:"اور مجھے سراپا نور کردے"اور انھوں نے (کسی بات میں ) شک کا اظہار نہ کیا۔