فهرس الكتاب

الصفحة 1988 من 7481

کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل

اس شخص کی فضیلت جس نے توجہ اور خاموشی سے خطبہ سنا

1988 و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا

اعمش نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جس شخص نے وضو کیا اوراچھی طرح وضو کیا،پھر جمعے کے لئے آیا،غور کے ساتھ خاموشی سے خطبہ سنا،اس کے جمعے سے لے کر جمعے تک گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔اورتین دن زائد کے بھی ۔اور جو (بلاوجہ) کنکریوں کو ہاتھ لگاتا رہا (ان سے کھیلتا رہا) ،اس نے لغو اورفضول کام کیا۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت