فهرس الكتاب

الصفحة 2128 من 7481

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

مصیبت کے وقت کیا کہا جاتا ہے ؟

2128 و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَزَادَ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ لِي فَقُلْتُهَا قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن نمیر نے کہا:ہمیں سعد بن سعید نے حدیث سنائی،انھوں نے کہا:مجھے عمر بن کثیر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابن سفینہ سے خبر دی اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی،انھوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ (آگے) ابو اسامہ کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) اور یہ اضافہ کیا:حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےکہا:جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو میں نے (دل میں ) کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر کون ہوسکتاہے؟پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ارادے کو پختہ کردیا تو میں نےوہی ( کلمات) کہے۔اس کے بعد میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی ہوگئی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت