فهرس الكتاب

الصفحة 219 من 7481

کتاب: ایمان کا بیان

اپنے باپ سے دانستہ نسبت توڑنے والے کے ایمان کی حالت

219 حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: سَمِعَ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ، يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ» فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

خالد نے ابو عثمان سےنقل کیا کہ جب زیاد کی نسبت ( ابوسفیان﷢ کی طرف ہونے) کا دعویٰ کیا گیا تھا تو میں جناب ابوبکر﷜ سےملا اور پوچھا: یہ تم لوگوں نے کیا کیا ؟ میں نے سعد بن ابی وقاص﷜ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے: '' جس نے اسلام کی حالت میں اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کو باپ بنانے کادعویٰ کیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے ۔ '' اس پر حضرت ابوبکرہ ﷜ نے کہا: خود میں نے بھی رسول اللہ﷜ سےیہی سنا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت