فهرس الكتاب

الصفحة 2210 من 7481

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

جنازے کی تکبیریں

2210 و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ يَعْنِي النَّجَاشِيَ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ إِنَّ أَخَاكُمْ

زہیر بن حرب،علی بن حجر،اور یحییٰ بن ایوب نے کہا:ہمیں اسماعیل ابن علیہ نے ایوب سے حدیث سنائی،انھوں نے ابو قلابہ سے،انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تمھارا ایک بھائی وفات پاگیا ہے لہذا تم اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔"آپ کی مراد نجاشی سے تھی۔اور زہیر کی روایت میں ان اخالکم"تمھارا ایک بھائی"کی بجائے) ان اخاکم (تمھارا بھائی) کےالفاظ ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت