فهرس الكتاب

الصفحة 2215 من 7481

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

قبر پرنماز جنازہ ادا کرنا

2215 و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابًّا فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ فَقَالُوا مَاتَ قَالَ أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي قَالَ فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ فَقَالَ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَدَلُّوهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔یا ایک نوجوان تھا۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت۔۔۔یا اس مرد۔۔۔کے بارے میں پوچھا تو لوگوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا:وہ فوت ہوگیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کیا تم لوگوں کو مجھے اطلاع نہیں دینی چاہیے تھی؟"کہا:گویا ان لوگوں نے اس عورت۔۔۔یا اس مرد۔۔۔کے معاملے کو معمولی خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مجھے اس کی قبردکھاؤ۔"صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر دیکھائی۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کی نماز جنازہ پڑھی،پھر فرمایا:"اہل قبور کے لئے یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اورمیری ان پر نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان (قبروں) کو منور فرمادیتا ہے۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت