فهرس الكتاب

الصفحة 2538 من 7481

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

روزے کاآغاز طلوع فجر سے ہوتا ہے اور فجر طلوع ہونے تک اس(روزہ دار )کے لیے کھانا وغیرہ جائز ہے

2538 حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا

ابن نمیر،عبیداللہ بن نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال اور حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رات کے و قت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان دیں راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا۔سوائے اس کے کہ وہ ا ذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت