فهرس الكتاب

الصفحة 2543 من 7481

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

روزے کاآغاز طلوع فجر سے ہوتا ہے اور فجر طلوع ہونے تک اس(روزہ دار )کے لیے کھانا وغیرہ جائز ہے

2543 وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ: «يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ» وقَالَ إِسْحَاقُ: قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ «وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا» - يَعْنِي الْفَجْرَ - هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ

ابو بکر ابن ابی شیبہ،معتمر بن سلیمان،اسحاق بن ابراہیم،جریر،معتمر بن سلیمان،اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔اس میں ہے کہ حضرت بلال کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سورہا ہو وہ بیدار ہوجائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے ۔اسحاق نے کہا:جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت