فهرس الكتاب

الصفحة 2719 من 7481

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

رمضان کے علاوہ (دوسرے مہینوں میں ) نبی اکرم ﷺ کے روزے 'یہ مستحب ہے کہ کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ رہے

2719 وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ - قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّ أَيُّوبَ، قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ -، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:"كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، قَدْ أَفْطَرَ، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا كَامِلًا، مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ"

حماد نے ایوب اورہشام سے ،انھوں نے محمد سے،انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی۔حماد نے کہا:میرا خیال ہے،ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا۔کہا:میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا توانھوں نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے:آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے پر روزے رکھتےجارہے ہیں۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرتے (روزے رکھنا ترک کردیتے) حتیٰ کہ ہم کہتے:آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل افطار کررہے ہیں،کہا:جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ہیں،میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں،ا س کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت