فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
احرام باندھنے سے زرا پہلے جسم پر خوشبو لگانا اور کستوری استعمال کرنا مستحب ہے اور اس کی چمک 'یعنی جگمگاہٹ باقی رہ جانے میں کوئی حرج نہیں
2838 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ السَّلُولِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعَ ابْنَ الْأَسْوَدِ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ، يَتَطَيَّبُ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ، ثُمَّ أَرَى وَبِيصَ الدُّهْنِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، بَعْدَ ذَلِكَ»
ابو اسحاق نے ( عبد الرحمٰن ) بن اسود کو اپنے والد (اسود بن یزید ) سے روایت کرتے ہو ئے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م باندھنے کا ارادہ فر ما تے تو (اس وقت ) جو بہترین خوشبو آپ کو میسر ہو تی اسے لگا تے اس کے بعد میں (آپ کے احرا م باندھنے کے بعد ) آپ کے سراور داڑھی میں (خوشبو کے ) تیل کی چمک دیکھتی