فهرس الكتاب

الصفحة 2850 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرام باندھا ہوا ہو اس کے لیے کسی کھائے جانے والے جانور کا شکار جو خشک زمین پر رہتا ہو یا بنیادی طور پر خشکی سے تعلق رکھتا ہوۃ 'حرام ہے

2850 وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ؟ قَالَ: قَالَ: أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: «إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ»

طاوس نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا: (ایک بار) زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لا ئے تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں یاد کراتے ہو ئے کہا: آپ نے مجھے اس شکار کے گو شت کے متعلق کس طرح بتا یا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م کی حالت میں ہدیتًا پیش کیا گیا تھا ؟ (طاوس نے ) کہا (زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) بتا یا )آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کے گو شت کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور فر ما یا:ہم اسے نہیں کھا سکتے (کیونکہ ) ہم احرا م میں ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت