فهرس الكتاب

الصفحة 2880 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

اگر بیماری لاحق ہو تو احرام والے کے لیے سر منڈوانا جائز ہے اور سرمنڈنے کے سبب اس پر فدیہ واجب ہے اور فدیے کی مقدار کی وضاحت

2880 وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ» قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: 196] فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ»

سیف (بن سلیمان ) نے کہا: میں نے مجا ہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنا ئی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر (کی طرف ) کھڑے ہو ئے اور ان کےسر سے جو ئیں گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا"کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں اذیت دیتی ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں ،آپ نے فر ما یا:"تو اپنا سر منڈوا لو۔ (کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا: تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہو ئی پھر اگر کو ئی شخص بیما رہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوا لے) تو فدیے میں رو زے رکھے یا صدقہ دے یا قر بانی کرے ۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فر ما یا:"تین دن کے روزے رکھویا (کسی بھی جنس کا ) ایک فرق (تین صاع ) چھ مسکینوں میں صدقہ کر و یا قر بانی میسر ہو کرو۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت