فهرس الكتاب

الصفحة 2884 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

اگر بیماری لاحق ہو تو احرام والے کے لیے سر منڈوانا جائز ہے اور سرمنڈنے کے سبب اس پر فدیہ واجب ہے اور فدیے کی مقدار کی وضاحت

2884 وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَا الْحَلَّاقَ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟» قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، «فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ» ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} [البقرة: 196] ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً

زکریا بن ابی زائد ہ سے روایت ہے کہا: ہمیں عبدالرحٰمن بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا مجھے عبد اللہ بن معقل نے انھوں نے کہا:مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئیکہ وہ احرا م باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں (کثرت سے) جو ئیں پڑ گئیں ۔اس (بات ) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انھیں بلا بھیجا اور ھجا م کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پو چھا:"کیا تمھا رے پاس کو ئی قربانی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا: (اے اللہ کے رسول ) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انھیں حکم دیا: تین دن کے روزے عکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھا نا مہیا کر دو مسکینو ں کے لیے ایک صاعہو اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فر ما ئی:"جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو،اس کے بعد یہ (اجازت ) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت