فهرس الكتاب

الصفحة 2925 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

احرام کی مختلف صورتیں 'حج افراد تمتع اور قران 'نیز عمرے (کے احرام ) میں 'احرام حج کو شامل کر لینے کا جواز 'اور (یہ کہ) حج قران کرنے والا کب احرام کھولے

2925 وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ «أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَنْ يَحِلَّ» ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقِيلَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: أَتَتْكَ، وَاللهِ، بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ

یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا، وہ فرما رہی تھیں:ذوالعقدہ کے پانث دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے ) نکلے ،ہمارے پیش نظر صرف حج تھا ۔جب ہم مکہ کہ قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فر مایا:""جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لے تو احرا م کھول دے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: عید کے دن ہمارے پاس گا ئے گو شت لا یا گیا۔میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟بتا یا گیا:اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے (یہ گا ئے ) ذبح کی ہے

یحییٰ نے کہا:میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد بن قاسم کے سامنے پیش کی تو (انھوں نے ) فر ما یا:اللہ کی قسم اس (عمرہ ) نے تمھیں یہ حدیث بالکل صحیح صورت میں پہنچا ئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت