فهرس الكتاب

الصفحة 2969 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

حج تمتع کرنما جائز ہے

2969 وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ الْفَزَارِيِّ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْمُتْعَةِ؟ فَقَالَ: «فَعَلْنَاهَا وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعُرُشِ، يَعْنِي بُيُوتَ مَكَّةَ»

مروان بن معاویہ نے کہا:ہمیں سلیمان تیمی نے غنیم بن قیس سے خبر دی،انھوں نے کہا:میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حج تمتع کے بارے استفسارکیا۔انھوں نے کہا ہم نے حج تمتع کیا تھا۔اور یہ (معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان دنوں سائبانوں (والے گھروں) میں خود کوڈھانپے ہوئے (مقیم ) تھے ،یعنی مکہ کے گھروں میں۔ (معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح حج افرادپر اصرار کرتے تھے۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت