فهرس الكتاب

الصفحة 2977 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

حج تمتع کرنما جائز ہے

2977 وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ

ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ،انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے انھوں نے عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ،انھوں نے فرمایا: جا ن لو!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو اکٹھا کیا تھا ۔اس کے بعد نہ تو اس معاملے میں اللہ کی کتاب (میں کو ئی بات) نازل ہو ئی ۔اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سے منع فرمایا:پھر ایک شخص نے اس کے بارے میں اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت