کسی رکاوٹ کے باعث (راستے میں) احرام کھول دینے 'نیز حج قران اور اس میں ایک طواف اور ایک سعی پر اکتفاکرنے کا جواز
2991 وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَكَانَ يَقُولُ: مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا
ابن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں میرے والد (عبداللہ) نے عبیداللہ سے، انھوں نے نافع سے روایت کی،کہا:حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اس موقع پر حجاج بن یوسف ،ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلے میں اترا،حج کااردہ کیا۔ (ابن نمیر نے پوری) حدیث (یحییٰ قطان کے) اس قصے کی طرح بیان کی۔البتہ حدیث کے آخر میں کہا کہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) یہ کہا کرتے تھے:جو شخص حج وعمرہ اکھٹا (حج قران کی صورت میں) ادا کرے تو اسے ایک ہی طواف کافی ہے۔اور وہ اس وقت ک احرام سے فارغ نہیں ہوگا جب تک دونوں سے فارغ نہ ہوجائے۔