فهرس الكتاب

الصفحة 2999 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

حاجی کےلیے طواف قدوم اور اس کے بعد سعی کرنا مستحب ہے

2999 حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟ فَقَالَ: «قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ»

سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ،کہا:ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو عمرے کی غرض سے آیا،اس نے بیت اللہ کاطواف کرلیا (لیکن ابھی) صفا مروہ کی سعی نہیں کی،کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے؟انھوں نے فرمایا: (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے تو آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا،مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں،اور (پھر) صفا مروہ کے درمیان سات بار چکر لگائے۔اور (یاد رکھو) تمھارے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (کے طریقے) میں بہترین نمونہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت