عمرے کا احرام باندھنے والے کا احرام 'صفا مروہ کی سعی سے پہلےصرف طواف کرنے سے ختم نہیں ہوتا 'حج کا احرام باندھنے والا (صرف) طواف قدوم سے حلّت میں نہیں آتا 'اسی طرح حج قران کرنے والے کا حکم ہے (طواف سے اس کا احرام ختم نہیں ہو گا
3003 وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ: اسْتَرْخِي عَنِّي، اسْتَرْخِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ؟
وہیب نے کہا:ہمیں منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ) سے،انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی،انھوں نے فرمایا:ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے،پھر آگے ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی،البتہ (اپنی حدیث میں یہ اضافہ) ذکر کیا: (زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا:مجھ سے دور رہو،مجھ سے دور رہو،میں نے کہا:آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی۔