فهرس الكتاب

الصفحة 3018 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

احرام کے وقت قربانی کے اونٹوں کا اشعار(کوہان پرچیرلگانا )اور انھیں ہار پہنانا

3018 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ، «أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ» ؟ فَقَالَ: «سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ»

شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ،کہا: میں نے ابو حسان اعرج سے سنا، انھوں نے کہا بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا یہ کیا فتوی ہے ۔جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے (عمرہ کر لے ) وہ احرا م سے باہر آجا تا ہے ۔ انھوں نے فر ما یا: یہی تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چا ہے تمھا ری مرضی نہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت