فهرس الكتاب

الصفحة 3069 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

دوران طواف حجرا سود کو بوسہ دینا مستحب ہے

3069 وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: «إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ»

ہمیں خلف بن ہشام،مقدمی ،ابوکامل،اورقتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی،خلف نے کہا:ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی،انھوں نےعبداللہ بن سرجس سے روایت کی،کہا:میں نے سرکےاگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے،یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا،وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے:اللہ کی قسم!میں تجھے بوسہ دےرہاہوں،اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے،تو نقصان پہنچاسکتا ہے نہ نفع،اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیے دیکھاتھا ،تومیں تجھے بوسہ نہ دیتا۔

مقدمی اور ابو کامل کی روایت میں (اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے) "آگے سے چھوٹی سی گنج والے"کودیکھا کے الفاظ ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت