فهرس الكتاب

الصفحة 3101 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

عرفات سے مزدلفہ آنا اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں اکٹھی ادا کرنا مستحب ہے

3101 وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ:"أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ - وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ: أَرَاقَ الْمَاءَ - قَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ"، قَالَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الصَّلَاةَ، قَالَ: «الصَّلَاةُ أَمَامَكَ» قَالَ: «ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ»

عبد اللہ بن مبا رک نے ابراہیم بن عقبہ سے انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،وہ کہہ رہے تھے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لو ٹے جب گھا ٹی کے پاس پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا ۔اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (کنایتہً) کہ نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہا یا ۔۔۔کہا: آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا وضو تھا ۔میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !نماز؟ فرمایا:"نماز ( پڑھنے کا مقام ) تمھا رے آگے (مزدلفہ میں ) ہے کہا:پھر آپ چلے حتی ٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے اور مغر ب اور عشاء کی نمازیں (اکٹھی ) ادا کیں۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت