قربانی کے دن سنت یہ ہے کہ (حج کرنے والا پہلے ) رمی کرے 'پھر قربانی کرے 'پھر سر مونڈائے اور مونڈنے کی ابتداء سر کی دائیں طر ف سے کی جائے
3154 وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:"أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ، وَقَالَ: بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ، فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ"، ثُمَّ قَالَ: «احْلِقِ الشِّقَّ الْآخَرَ» فَقَالَ: «أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ؟ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ»
ہمیں عبد الاعلیٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ہشام ( بن حسان) نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی انھوں نے انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہعقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انھیں نحر کیا اور حجام (آپ کے لیے) بیٹھا ہوا تھا آپ نے (اسے ) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے ( بالاتارنے کا ) اشارہ کیا تو اس نے آپ (کے سر ) کی دائیں طرف کے بال اتاردیے ۔آپ نے وہ بال ان لو گوں میں بانٹ دیے جو آُ کے قریب موجود تھے ۔پھر فر ما یا:"دوسری طرف کے بال (بھی ) اتار دو۔اس کے بعد آپ نے فر ما یا:"ابو طلحہ کہاں ہیں ؟اور آپ نے وہ (موئے مبارک ) انھیں دے دیے ۔