فهرس الكتاب

الصفحة 322 من 7481

کتاب: ایمان کا بیان

کیا جاہلیت کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا؟

322 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ قَتَلُوا فَأَكْثَرُوا، وَزَنَوْا فَأَكْثَرُوا، ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ، وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] وَنَزَلَ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ

حضرت ابن عباس ﷜ سے روایت ہے کہ (جاہلی دور میں ) مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے تھے تو بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا تو بہت کیا تھا ، پھر وہ حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگے: آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس (راستے ) کی دعوت دیتے ہیں ، یقینًا وہ بہت اچھا ہے ۔ اگر آپ ہمیں بتا دیں کہ جو کام ہم کر چکے ہیں ، ان کا کفارہ ہو سکتا ہے ( تو ہم ایمان لے آئیں گے ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی:'' جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے ، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا '' (ہر مسلمان پر ان ابدی احکام کی پابندی ضروری ہے ) اور یہ آیت نازل ہوئی: ''اے میرے بندو! جو اپنے اوپر زیادتی کر چکے ہو ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔ (جو اسلام سے پہلے یہ کام کر چکے ان کے بارے میں وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت