حاجی اور دوسرے لوگوں کے لیے کعیہ میں داخل ہونا 'نیز اس میں نماز ادا کرنا اور اس کی تمام اطراف میں دعا کرنا مستحب ہے
3237 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ بَكْرٍ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ، دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ «هَذِهِ الْقِبْلَةُ» ، قُلْتُ لَهُ: مَا نَوَاحِيهَا؟ أَفِي زَوَايَاهَا؟ قَالَ: بَلْ فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ
ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہا: میں نے عطا ء سے پو چھا: کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ہے کہ تمھیں طواف کا حکم دیا گیا ہے اس (بیت اللہ) میں دا خل ہو نے کا حکم نہیں دیا گیا انھوں نے جواب دیا وہ اس میں دا خل ہو نے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے ان سے سنا کہہ رہے تھے مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام اطراف میں دعا کی اور اس میں نماز ادا نہیں کی ۔یہاںتک کہ باہر آگئے جب آپ تشر یف لا ئے تو قبلہ کے سامنے کی طرف دورکعتیں ادا کیں اور فر ما یا:"یہ قبلہ ہے میں نے ان سے پو چھا:اس کے اطراف سے کیا مرا د ہے ؟کیا اس کے کو نوں میں؟ انھوں نے کہا: بلکہ بیت اللہ کی ہر جہت میں ۔"