فهرس الكتاب

الصفحة 3277 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

حج یا دوسرےسفرپر نکلتے ہوئے سوار ہو کرذکر کرنا مستحب ہے اور اس میں سے افضل ذکر کی وضاحت

3277 وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ: فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ خَازِمٍ، قَالَ: يَبْدَأُ بِالْأَهْلِ إِذَا رَجَعَ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا جَمِيعًا: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ»

ابومعاویہ (محمد بن خازم) اور عبدالواحد دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی،مگر عبدالواحد کی حدیث میں"مال اوراہل میں"کے الفاظ ہیں اور محمد بن خازم کی روایت میں ہے،کہا:"جب آپ واپس آتے تواہل (کی سلامتی کی دعا) سے ابتدا کرتے"اور (یہ ) دونوں کی روایت میں ہے؛"اے اللہ ! میں سفر کی تکان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت