فهرس الكتاب

الصفحة 3280 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

جب کوئی آدمی حج یا دوسرے سفر سے لوٹے تو کیا کہے

3280 وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ، وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ،

اسماعیل بن علیہ نے ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق سے حدیث بیان کی ،انھوں نے کیا:حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:میں اور ابو طلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں (سفر سے) و اپس آئے اورحضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی اونٹنی پر آپ کے پیچھے (سوار) تھیں۔جب ہم مدینہ کے بالائی حصے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ہم لوٹنے و الے،توبہ کرنے والے،عبادت کرنے والے،اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں،"آپ مسلسل یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت