مکہ حرم ہے 'اس میں شکار کرنا 'اس کی گھاس اور درخت کا ٹنا اور اعلان کرنے والے کے سوا (کسی کا) یہاں سے کوئی پڑی ہوئی چیز اٹھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے
3303 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: «يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» ، وَقَالَ: بَدَلَ الْقِتَالِ: «الْقَتْلَ» وَقَالَ: «لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا»
مفضل نے ہمیں منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، انھوں نے"جس دن سے اللہ تعا لیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا"کے الفا ظ ذکر نہیں کیے ۔"قتال" (لڑائی ) کے بجا ئے"قتل"کا لفظ کہا اور کہا"یہاں کی گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اس کا اعلا ن کرے ،کو ئی نہ اٹھا ئے ۔"