مدینہ کی فضیلت 'اس میں برکت کےلیے نبی ﷺکی دعا 'مدینہ کی حرمت 'اس کے شکار اور اس کے درختوں کی حرمت اور حرم کی حدود کا بیان
3314 وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ فَكَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ: «بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ» ، وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ فَفِي رِوَايَتِهِمَا: «مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ»
عبدالعزیز یعنی ابن مختار سلیمان بن بلال اور وہیب (بن خالد باہلی ) سب نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی وہیب کی حدیث درااوردی کی حدیث کی طرح ہے:"اس سے دگنی (بر کت ) کی جتنی بر کت کی برا ہیمؑ نے دعا کی تھی"جبکہ سلیمان بن بلال اور عبد العزیز بن مختار دونوں کی روایت میں ہے"جتنی (برکت کی) ابرا ہیمؑ نے دعا کی تھی۔"