مدینہ کی فضیلت 'اس میں برکت کےلیے نبی ﷺکی دعا 'مدینہ کی حرمت 'اس کے شکار اور اس کے درختوں کی حرمت اور حرم کی حدود کا بیان
3329 وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَوَكِيعٍ، إِلَّا قَوْلَهُ: «مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ» ، وَذِكْرَ اللَّعْنَةِ لَهُ
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابن مسہر اور وکیع کی حدیث کی طرح بیان کی مگر اس میں"جس نے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں) کے علاوہ کسی کی طرف نسبت اختیار کی"اور اس پر لعنت کا ذکر نہیں ہے۔