فهرس الكتاب

الصفحة 3346 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

مدینہ میں رہنے کی ترغیب اور اس کی تنگ دستی اور سختیوں پر صبر کرنا

3346 وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ يُحَنَّسَ، مَوْلَى مُصْعَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا، كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» يَعْنِي الْمَدِينَةَ

ضحاک نے ہمیں قطن خزاعی سے خبر دی،انھوں نے مصعب کے مولیٰ یحس سے،انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"جس نے اس (شہر) کی تنگدستی اورسختی پر صبر کیا،میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گایا سفارشی۔"ان کی مراد مدینہ سے تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت