فهرس الكتاب

الصفحة 3356 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

مدینہ اپنے میل کچیل(شریر لوگوں)کو نکال دیتا ہے اور اس کا نام طابہ(پاک کرنے والا )اور طیبہ(پاکیزہ )ہے

3356 وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّهَا طَيْبَةُ - يَعْنِي - الْمَدِينَةَ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ»

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بلا شبہ یہ طیبہ (پاک) ہے،۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی۔یہ میل کچیل کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسےآگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت