فهرس الكتاب

الصفحة 3432 من 7481

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

نکاح متعہ کا حکم اور اس بات کی وضاحت کہ وہ جائز قرار دیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر دوبارہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور(اب)اس کی حرمت قیامت کے دن تک کے لیے برقرار ہے

3432 وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ لِفُلَانٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالک

ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں جویریہ (بن اسماء بن عبید ضبعی) نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: انہوں (محمد بن علی) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فلاں (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ) سے کہہ رہے تھے: تم حیرت میں پڑے ہوئے (حقیقت سے بے خبر) شخص ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تھا ۔۔۔ آگے یحییٰ بن یحییٰ کی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت