فهرس الكتاب

الصفحة 3447 من 7481

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

جو حالتِ احرام میں ہو اس کے لیے نکاح کرنا حرام اور نکاح کا پیغام بھیجنا مکروہ ہے

3447 وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: بَعَثَنِي عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ، وَكَانَ يَخْطُبُ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَلَى ابْنِهِ، فَأَرْسَلَنِي إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ، فَقَالَ: أَلَا أُرَاهُ أَعْرَابِيًّا، «إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ، وَلَا يُنْكَحُ» ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عُثْمَانُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ایوب نے نافع سے روایت کی، کہا: مجھے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عمر بن عبیداللہ بن معمر نے بھیجا۔ وہ شیبہ (بن جبیر) بن عثمان کی بیٹی کے لیے اپنے بیٹے کے نکاح کا پیغام بھیج رہے تھے تو مجھے انہوں نے ابان بن عثمان کی طرف بھیجا اور وہ امیر حج تھے، انہوں نے کہا: کیا میں اسے (عمر کو) ایک بدو (جیسا کام کرتے) نہیں دیکھ رہا؟ جو شخص حالت احرام میں ہو وہ نہ نکاح کرتا ہے نہ (کسی کا) نکاح کراتا ہے۔ ہمیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دی تھی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت