فهرس الكتاب

الصفحة 3522 من 7481

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

دعوت دینے کو والے کا بلا وا قبول کرنے کا حکم

3522 وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: يَا أَبَا بَكْرٍ، كَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ؟ فَضَحِكَ، فَقَالَ: لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ أَبِي غَنِيًّا، فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ،

سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے امام زہری سے پوچھا: جنابِ ابوبکر! یہ حدیث کس طرح ہے:"بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے"؟ وہ ہنسے، اور جواب دیا: یہ (حدیث) اس طرح نہیں ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے۔

سفیان نے کہا: میرے والد غنی تھے، جب میں نے یہ حدیث سنی تھی تو اس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، اس لیے میں نے اس کے بارے میں امام زہری سے دریافت کیا، انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن اعرج نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: بدترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے۔ آگے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت