فهرس الكتاب

الصفحة 356 من 7481

کتاب: ایمان کا بیان

جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا اس کےلیے آگ کی وعید

356 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ»

(اعمش کے بجائے ) منصور نے ابووائل سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود﷜ سے روایت کی ۔ حضرت عبد اللہ ﷜ نے کہا: جو شخص ایسی قسم اٹھاتا ہے جس کی بنا پر وہ مال کا حق دار ٹھہرتا ہے او روہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کو اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا ، پھر اعمش کی طرح روایت بیان کی البتہ (اس میں ) انہوں نے کہا: میرے اور ایک آدمی کے درمیان کنویں کے بارے میں جھگڑا تھا ۔ ہم ہی جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:'' تمہارے دو گواہ ہوں یا اس کی قسم (کے ساتھ فیصلہ ہو گا) ۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت