فهرس الكتاب

الصفحة 3685 من 7481

کتاب: طلاق کے احکام ومسائل

طلاق دینے کی نیت کیے بغیر محض بیوی کو اختیار دے دینے سے طلاق واقع نہیں ہو تی

3685 وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: مَا أُبَالِي خَيَّرْتُ امْرَأَتِي وَاحِدَةً، أَوْ مِائَةً، أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي، وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: «قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَكَانَ طَلَاقًا

علی بن مسہر نے اسی سند کے ساتھ مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب میری اہلیہ نے مجھے پسند کر لیا تو اس کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسے ایک بار، سو بار یا ایک ہزار بااختیار دوں۔ بلاشبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا وہ طلاق تھی! (نہیں تھی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت