فهرس الكتاب

الصفحة 3694 من 7481

کتاب: طلاق کے احکام ومسائل

ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا 'نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان:''اور اگر تم دونوں آپﷺ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ''

3694 وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، وَهُوَ مَوْلَى الْعَبَّاسِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَبِثْتُ سَنَةً مَا أَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا، حَتَّى صَحِبْتُهُ إِلَى مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ذَهَبَ يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَقَالَ: أَدْرِكْنِي بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ وَرَجَعَ، ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ، وَذَكَرْتُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ؟ فَمَا قَضَيْتُ كَلَامِي حَتَّى قَالَ: «عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ

سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبید بن حنین سے سنا، وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایکا کیا تھا، میں سال بھر منتظر رہا، مجھے کوئی مناسب موقع نہ مل رہا تھا، حتی کہ میں مکہ کے سفر میں ان کے ساتھ گیا، جب ہم مر الظہران پہنچے تو وہ قضائے حاجت کے لیے گئے اور کہا: میرے پاس پانی کا ایک لوٹا لے آنا، میں نے انہیں لا دیا۔ جب وہ اپنی حاجت سے فارغ ہو کر لوٹے، میں جا کر ان (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالنے لگا، تو مجھے (سوال) یاد آ گیا، میں نے ان سے پوچھا: اے امیر المومنین! وہ کون سی دو عورتیں تھیں؟ میں نے ابھی اپنی بات ختم نہ کی تھی کہ انہوں نے جواب دیا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھن تھیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت