ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا
3777 وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے روایت کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ بریرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی۔ وہ ان سے اپنی مکاتبت (قیمت ادا کر کے آزادی کا معامدہ کرنے) کے سلسلے میں مدد مانگ رہی تھی، اس نے اپنی مکاتبت کی رقم میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اپنے مالکوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت کی رقم ادا کروں اور تمہارا حقِ ولاء میرے لیے ہو، تو میں (تمہاری قیمت کی ادائیگی) کر دوں گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ اپنے مالکوں سے کہی تو انہوں نے انکار کر دیا، اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ نیکی کرنا چاہتی ہیں تو کریں، لیکن تمہاری ولاء کا حق ہمارا ہی ہو گا۔ اس پر انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا:"تم خرید لو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔"پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر پر) کھڑے ہوئے اور فرمایا:"لوگوں کو کیا ہوا ہے وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب (کی تعلیمات) میں نہیں۔ جس نے ایسی شرط رکھی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو اسے اس کا کوئی حق نہیں چاہے وہ سو مرتبہ شرط رکھ لے۔ اللہ کی شرط زیادہ حق رکھتی ہے اور وہی زیادہ مضبوط ہے"